Tuesday, 19 July 2016

کمشنر کو 3 روز میں کچرا ہٹانے کی مہلت

0 comments


کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی تمام تر مشینری اور افرادی قوت کو بروئے کار لا تے ہوئے شہر کو صاف ستھرا بنائیں ورنہ اپنے خلاف سخت کارروائی کے لئے تیار رہیں،وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کے ایم سی ، ڈی ایم سیز اور ڈپٹی کمشنرکو صفائی ستھرائی اور شہریوں کو پانی کے مفت ٹینکرز فراہم کرنے کے لئے مطلوبہ فنڈز مہیا کیے ،معاملے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی،اجلاس
کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی سے کچرا نہ اٹھانے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمشنر کراچی کو 3دن کی مہلت دی ہے کہ کراچی شہر کی گلیوں اور سڑکوں سے کچرا اٹھا یا جائے بصور ت دیگر اپنے خلاف سخت کارروائی کے لئے تیار رہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پانی اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو، ایڈیشنل سیکریٹری (ترقیات) محمد وسیم، کمشنر کراچی اعجاز احمد خان، سیکریٹری بلدیات بقاء اﷲ انڑ، ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد، ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے کے ایم سی ، ڈی ایم سیز اور ڈپٹی کمشنرز کو شہر کی صفائی ستھرائی اور شہریوں کو پانی کے مفت ٹینکرز فراہم کرنے کے لئے مطلوبہ فنڈز مہیا کیے تھے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ اس معاملے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی ۔انہوں نے کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو حکم دیا کہ وہ اپنی تمام تر مشینری اور افرادی قوت کو بروئے کار لا تے ہوئے تمام ڈی ایم سیز سے کچرا اٹھا کر شہر کو صاف ستھرا بنائیں ورنہ اپنے خلاف سخت کارروائی کے لئے تیار رہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمیں محکمہ بلدیات کے ایسے سینی ٹیشن ورکرز کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو تنخواہ لینے کے باوجود بھی اپنا کام نہیں کرتے ۔ انہوں نے کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو حکم دیا کہ وہ تمام ڈی ایم سیز ، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ عملے کو متحرک کریں اور 3دن کے اندر شہر سے کچرا اٹھا کرمکمل صفائی کی جائے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کے پاس بہت بڑی تعداد میں سینی ٹیشن ورکرز اور بھاری مشینری موجود ہے جو شہر بھر کے کلیکشن پوائنٹس سے کچرا اٹھا کر لینڈ فل سائٹس تک پہنچا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کو انکے ملازمین کی تنخواہوں اور انکے علاقوں کی صفائی کے لئے اضافی فنڈز بھی فراہم کر رہی ہے لیکن انکی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں کا ذاتی طور پر دورہ کیا اور انکو ہر جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آئے ۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ لوگوں کو 3دن کی مہلت دیتا ہوں کہ آپ ہر متعلقہ عملے اور افسران کو شہر کی صفائی، کچرا اٹھانے اور اپنا متعلقہ کام کرنے کی ہدایت کریں بصورت دیگر نہ صرف ان کو فارغ کیا جائیگا بلکہ انکے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائیگی۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے علاقوں میں فری واٹر ٹینکرز کی تقسیم پر بھی نا راضگی کا اظہار کرتے ہوئے مفت پانی کے ٹینکرز کی تقسیم کے نظام کو بہتر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے اکثر غریب عوام پانی خرید نے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے کمشنر کراچی کو اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔
شکریہ دنیا ویب

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔